پاکستان میں جب بھی تعلیم اور زبان پر گفتگو ہوتی ہے تو عام طور پر ایک ہی سوال زیرِ بحث آتا ہے کہ ہمارا ذریعۂ تعلیم کیا ہونا چاہیے؟ انگریزی‘ اُردو یا مادری زبان؟ بظاہر یہ ایک سادہ سوال ہے مگر اتنا سادہ بھی نہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ہماری سوچ کے انداز اور ہماری شناخت سے جڑی ہوتی ہے اور اس کا براہِ راست تعلق طاقت سے ہے۔ جس زبان کے بولنے والے برتر سماجی مرتبے کے مالک ہوں اور جس زبان کی Pragmatic Value زیادہ ہو وہ طاقتور زبان کہلاتی ہے
Read Complethttps://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-06/51896/72231453e Column